ملاکنڈ پیڈیا..
ریاستِ دیر کے نوابی دور کا دو سو سال پُرانا جنکون بدرکنی ڈوگدرہ کا قبرستان..آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کسطرح نوابی دور میں قبروں پر لکڑی کا نقش و نگار بنایا جاتا تھا...
1967 میں ایک جرمن ماہر بشریات اووی ٹوپر کی تحقیق کے مطابق یہ داردا قبر ثقافت کے دلچسپ فن اور ڈیزائن کی عکاسی کرتا ہے جو مقبول گندھارا قبر ثقافت کا ایک حصہ ہے۔ تحقیق میں دردستان کے نام سے مشہور علاقوں یعنی کوہستان، سوات، دیر، دیامر، چترال، گلگت اور ہزارہ ڈویژن کے کچھ حصوں میں مقبروں پر لکڑی کے کام کا تجزیہ کیا گیا.
کوہستان میں لکڑی کی زیادہ تر کُنندہ کاری مساجد اور قبرستانوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کُنندہ کاری کی عمر کتنی ہو گی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ لکڑی کی کنندہ کاری کے بےشمار اور قدیم نمونے ناپید ہو چکے ہیں یا پھر انہیں محفوظ نہیں کیا گیا۔ تا ہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کی لکڑی کی کنندہ کاری میں ابتدائی نمونے قبرستانوں کی ہے اور بعد میں مساجد کی۔اس خطے میں قبروں کے پنجروں اور لوحوں پر جو کُنندہ کاری پائی جاتی ہے وہ مساجد کی کُنندہ کاری سے پہلے کے دور سے تعلق رکھتی ہے کیوں کہ اُن نمونوں میں گھوڑے کے سروں اور جنگلی مرغوں کی کلغیوں کی اشکال پائی جاتی ہیں جو قبل از اسلامی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔
0 Comments