نواب دیر اورنگزیب خان نے بالائی سوات کے علاقوں پر اپنی عملداری مکمل قائم کی۔

 ملاکنڈ پیڈیا ۔

جب نواب دیر اورنگزیب خان نے بالائی سوات کے علاقوں پر اپنی عملداری مکمل قائم کی۔


7 جنوری 1911 کو ختم ہونے والے ہفتے کی رپورٹ

دیر

1۔ ہفتے کے آغاز میں نوابِ دیر کے لشکر نے اچانک شاموزئی کے علاقے پر یلغار کی اور قبیلے کے سب سے اہم مضبوط گڑھ کک قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ شاموزئی اس حملے سے بالکل بے خبر تھے اور انہوں نے عملاً کوئی مزاحمت نہ کی۔ اس فوجی کامیابی کے ساتھ ہی دیر کی افواج کے ہاتھوں برسوات کی فتح مکمل ہو گئی۔ لشکروں میں شامل اکثر آدمی اب اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، جبکہ نواب کے وفاداروں کی ایک بڑی تعداد برسوات میں قلعے تعمیر کرنے کے لیے بدستور موجود ہے۔

بہت سے سواتی پناہ گزین نواب سے صلح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریائے سوات کے بائیں کنارے کے قبائل کا جو اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، وہ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شیرین بادشاہ میاں گل کی نواب کے دھڑے کے ساتھ مضبوط وابستگی ہے، اور اس کے ساتھ سوات کا تقریباً آدھا حصہ کھڑا ہے۔

دوسرا آدھا حصہ، جس کی قیادت گلشہزادہ کر رہا ہے، اگرچہ دریا کے دوسرے کنارے اپنے ہم قبیلہ لوگوں کی حمایت میں لڑائی میں شریک ہونا چاہتا ہے، مگر وہ اس خوف سے حرکت نہیں کر سکتا کہ اگر ان کا لشکر میدان میں نکلا تو شیرین بادشاہ کا گروہ ان پر حملہ کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ گلشہزادہ کے لوگ اس بات سے بھی خوف زدہ ہیں کہ نواب بائیں کنارے پر حملہ نہ کر دے۔

جندول کی سرحد پر بھی یہی بے عملی دکھائی دیتی ہے۔ میان گل جان، بروا کے سید احمد پر اعتماد نہیں کرتا، خاص طور پر اس لیے کہ سید احمد کا بیٹا نواب کے ساتھ جا ملا ہے، اور میان گل جان سمجھتا ہے کہ یہ محض اسے نقصان پہنچانے کی ایک چال ہے۔ اب وہ کناٹر میں نواب کے پاس گیا ہے تاکہ اسے آمادہ کرے کہ سندھ اور میدان کے علاقوں میں میان گل جان کے سابق حامیوں کو معاف کر دے۔

2۔ بظاہر نواب اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے اپنے باج گزار سرداروں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اس نے سادو کے قریب قلعہ کھونگی کو بغیر کسی واضح وجہ کے تباہ کر دیا ہے، اور یہی انجام کناٹر کے ملک محی الدین کے قلعے کے لیے بھی مقدر بتایا جاتا ہے۔

خانِ خار اور نواب کے درمیان اتحاد مزید مضبوط ہو گیا ہے، اور نواب یہ اعلان کر رہا ہے کہ وہ خانِ خار کی مدد کرے گا تاکہ وہ سالارزئی کو کچل دے، اور اس کے بعد وہ جندول پر حملہ کر کے اسے اپنے ساتھ ملا لے گا۔ سوات میں اس کی کامیابی بظاہر اس کے سر چڑھ گئی ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ وہ جلد ہی پولیٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کا خواہاں ہے۔

14 جنوری 1911 کو ختم ہونے والے ہفتے کی شمال مغربی سرحدی صوبائی ڈائری سے اقتباس

دیر

1۔ ہفتے کے دوران نوابِ دیر نے پولیٹیکل ایجنٹ سے ملاقات کی۔ اس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ برسوات پر حملے کے معاملے میں اس نے دیے گئے مشورے کے خلاف عمل کیا، اور درخواست کی کہ اس کے اس طرزِ عمل سے درگزر کیا جائے۔

اس نے اپنی صفائی میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسے اس اقدام پر مجبور کیا گیا، کیونکہ پائندہ خیل کے نمائندے، جنہیں گزشتہ بہار سوات پر اپنے حملے میں سخت نقصان اٹھانا پڑا تھا، انتقام لینے کے لیے بے حد بے چین تھے۔

امجد علی اتمان خیل آرکائیوز



Post a Comment

0 Comments