نواب شاہ جہان خان اور عالم زیب خان کے درمیان جاری چپقلش کا جائزہ

دو بھائیوں نواب شاہ جہان خان اور عالم زیب خان کے درمیان جاری چپقلش کا جائزہ 1935 تا 1940 تک۔

1935ء تا 1940ء جندول تنازعہ پر انٹیلی جنس کا خصوصی جائزہ
پہلا حصہ ۔
عالم زیب خان، جو موجودہ نوابِ دیر سر شاہ جہاں خان کے چھوٹے بھائی تھے، کو مرحوم نواب نے ستمبر 1919ء میں ان کی گزران کے لیے منڈہ کا قلعہ دیا تھا، اس کے ساتھ کئی دوسرے علاقے بھی شامل تھے، جن میں پنجکوڑہ پر واقع شیریگل اور پورا جندول شامل تھا۔
1925ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد عالم زیب خان کو ریاست کے ایک مضبوط گروہ کی طرف سے جانشینی کے لیے حمایت حاصل ہوئی، اور ان کے بڑے بھائی شاہ جہاں خان کے ساتھ اقتدار کی کشمکش متوقع تھی۔ تاہم چونکہ شاہ جہاں خان اس وقت دیر میں موجود تھے اور حکومت کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی، اس لیے انہیں فوراً نواب تسلیم کر لیا گیا۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت وہ جائیداد جو ان کے والد نے عالم زیب خان کو دی تھی، ان کے لیے برقرار رکھی گئی۔ اس کے باوجود دونوں بھائی ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے رہے، اور 1928ء میں حالات اس وقت سنگین ہو گئے جب عالم زیب خان کو جندول سے نکال دیا گیا اور وہ باجوڑ فرار ہو گئے، جہاں انہوں نے خار کے خان کے پاس پناہ لی۔
تاہم 1935ء تک ہی وہ اپنے آپ کو اس قدر مضبوط محسوس کرنے لگے کہ بزورِ طاقت جندول دوبارہ حاصل کر سکیں۔ اسی سال 21 اگست کو، تقریباً 800 حامیوں اور محافظوں کی جماعت جمع کرنے اور بڑی تعداد میں سالارزئی قبائل کی حمایت کے وعدے حاصل کرنے کے بعد، وہ کمانڈر شہز اللہ کے ذریعے مسکینی قلعہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اگست کے آخری ہفتے میں سالارزئی اور شموزئی اتمانخیل قبائل کی مزید کمک بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی، جس سے ان کی قوت میں اضافہ ہوا۔
تقریباً 1500 افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ۔ مسکینی قلعہ میں 200 آدمیوں کا دستہ چھوڑ کر اس نے سنگی پارہ قلعہ پر کئی ناکام حملے کیے۔
یکم ستمبر کو نوابِ دیر کی افواج نے مسکینی کے قریب عالمزیب خان کی افواج پر حملہ کیا اور شدید لڑائی کے بعد نمایاں فتح حاصل کی۔ مسکینی قلعہ دوبارہ نواب کی افواج کے قبضے میں آ گیا اور عالمزیب خان کا لشکر منتشر ہو کر اپنے گھروں کو واپس چلا گیا، جبکہ عالمزیب خان خود دبگئی واپس چلا گیا۔ شاہ ظلّہ، جو مسکینی قلعہ کا کمانڈر تھا اور جس نے قلعہ عالمزیب خان کے حوالے کر دیا تھا، اور دولت خان پائندہ خیل، جو ریاستِ سوات میں جلاوطنی کے مقام سے عالمزیب خان کے لشکر میں شامل ہوا تھا، دونوں عالمزیب خان کے ساتھ دبگئی میں پناہ گزین ہوئے۔
اپنی شکست کے فوراً بعد عالمزیب خان نے پولیٹیکل ایجنٹ ملاکنڈ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ اس کے اور نواب کے درمیان مصالحت کرائی جائے، لیکن اسے بتایا گیا کہ اس سلسلے میں اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا جب تک وہ تحریری ضمانت نہ دے کہ وہ برطانوی ہند میں رہنے اور نواب کی طرف سے وظیفہ قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ بظاہر اس نے اس شرط سے اتفاق نہیں کیا۔ پھر مئی 1936ء میں اس نے ہوتی کے نواب سر محمد اکبر خان سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ اس کی طرف سے نوابِ دیر سے صلح صفائی کی کوشش کریں تاکہ ان کا تنازع طے ہو سکے۔ 6 جون کو نوابِ ہوتی عالمزیب خان کو ساتھ لے کر ملاکنڈ آئے۔ ابازئی کے بعض بااثر میاں صاحبان اور شموزئی کے متعدد ملک، جن کا تعلق زیادہ تر دبگئی کے علاقے سے تھا جہاں عالمزیب خان مقیم تھا، بھی ان کے ساتھ تھے۔ پولیٹیکل ایجنٹ سے درخواست کی گئی کہ وہ دونوں بھائیوں کے درمیان سمجھوتہ کرانے کی کوشش کرے۔ مذاکرات شروع کیے گئے، لیکن چونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی شرائط ماننے پر تیار نہ تھے، اس لیے یہ کوششیں ناکام رہیں۔ چنانچہ عالمزیب خان واپس دبگئی چلا گیا اور وہاں خاموشی سے رہنے لگا۔
یکم اکتوبر 1936ء کو، صوبہ سرحد کے گورنر نے ریاستِ دیر میں منعقدہ ایک دربار کے موقع پر حکومت کی جانب سے نواب کے دوسرے بیٹے محمد شاہ خسرو خان کو ریاستِ دیر کا ولیِ عہد تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ فطری طور پر نواب کے بڑے بیٹے محمد نواز خان کے لیے ایک سخت صدمہ تھا، چنانچہ مذکورہ دربار کے بعد وہ خفیہ طور پر دیر چھوڑ کر ڈبگئی میں عالمزیب خان کے ساتھ جا ملا۔ (محمد نواز خان کی عمر اب تقریباً 20 سال ہے (1940ء)
1939ء میں خانِ خار کی شکست اور نواگئی سے اس کے انخلا کے بعد، اس کے اور خانِ نواگئی کے درمیان صلح ہو گئی۔ اس صلح کی شرائط میں دیگر امور کے علاوہ ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ خانِ خار اور خانِ نواگئی باہمی خوشگوار تعلقات برقرار رکھیں گے اور تمام جارحین کے خلاف ترکالانی (باجوڑ قبائل) کے مقصد کی حمایت کریں گے۔
ایسی شق کو اس وقت معاہدے میں شامل کرنا، جب مذہبی جماعت کے تمام اراکین، خوانین، ملک اور بڑی تعداد میں مہمند اور ترکلانی قبائل موجود تھے، غالباً اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ خانِ خار نوابِ دیر (پائندہ خیل) سے انتقام لینا چاہتا تھا، کیونکہ اس نے خار۔نواگئی تنازعے میں اس کی حمایت نہیں کی تھی۔
اس قیاس کی تائید اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ صلح نامے کے تقریباً ساتھ ہی خانِ خار نے نواب کے جلاوطن بھائی عالمزیب خان سے مذاکرات شروع کر دیے تاکہ اسے جار میں آباد ہونے پر آمادہ کیا جا سکے اور اس طرح نواب کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی جا سکے۔ وہ فوراً اس بات میں کامیاب ہو گیا کہ عالمزیب خان اپنے بھائی کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں شروع کر دے۔
خان نے خود سالارزئی اور ماموند قبائل کے جرگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمزیب خان کی اس مطالبے میں مدد کریں کہ نواب جندول اس کے حوالے کرے۔ اس نے سوات بھی قاصد روانہ کیے تاکہ اگر لڑائی چھڑ جائے تو والی سے مالی مدد حاصل کی جا سکے۔
کہانی جاری ہے
امجد علی اتمان خیل آرکائیوز
دوسری طرف نواب نے بھی جوابی اقدامات شروع کر دیے


1

2


Post a Comment

0 Comments