ملاکنڈ پیڈیا ۔
نواب دیر کے مرکزی قلعے کی دیوار جو لکڑی کے شہتیر اور پتھروں سے بنی ہے۔
پتھروں کی دیواروں میں لکڑی کے شہتیر (Wooden Beams / Timber Lacing) استعمال کرنے کی روایت بہت قدیم ہے۔ یہ طریقہ دنیا کے مختلف پہاڑی اور زلزلہ خیز علاقوں میں ہزاروں سال پہلے شروع ہوا تھا۔
قدیم آغاز
آثارِ قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لکڑی اور پتھر کو ملا کر دیواریں بنانے کا طریقہ کم از کم 3000 سے 4000 سال پہلے بھی رائج تھا۔
قدیم یونانی، رومی، وسط ایشیائی اور ہمالیائی علاقوں میں پتھریلی دیواروں کے اندر لکڑی کے شہتیر ڈالے جاتے تھے تاکہ عمارت مضبوط اور لچکدار رہے۔
زلزلہ سے بچاؤ
پہاڑی علاقوں میں خاص طور پر یہ طریقہ اس لیے اپنایا گیا کیونکہ:
صرف پتھر کی دیوار زلزلے میں جلد ٹوٹ جاتی ہے۔
لکڑی کے شہتیر دیوار کو “باندھ” دیتے ہیں اور جھٹکوں کو جذب کرتے ہیں۔
اس سے دیوار میں دراڑیں کم پڑتی ہیں۔
برصغیر اور خیبر پختونخوا میں
موجودہ خیبر پختونخوا، سوات، دیر، چترال اور کشمیر میں یہ طرزِ تعمیر صدیوں سے موجود ہے۔
یہاں:
پتھر کی دیواروں کے درمیان افقی لکڑی کے شہتیر ڈالے جاتے تھے۔
بعض اوقات ہر چند فٹ بعد لکڑی کی تہہ رکھی جاتی تھی۔
قلعوں، برجوں، گھروں اور مسجدوں میں یہ طریقہ عام تھا۔
امجد علی اتمان خیل آرکائیوز
0 Comments