British Major Beast was killed in Agra Malakand KP



 ملاکنڈ پیڈیا 


دو قبریں ایک راستہ ایک تاریخ ۔۔۔

پہلی تصویر ملاکنڈ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ میجر لیزلے ولئیم ہزلٹ بیسٹ کے قبر کی ہے جبکہ دوسری تصویر غازی محمد اتمانخیل بابا کے قبر کی ہے ۔۔یہی وہ غازی محمد اتمانخیل بابا ہے جس نے میجر ہزلٹ ولئیم بیسٹ کو snipping ہوکر  مارا ۔۔جبکہ تیسری تصویر اس مقام کی ہے جہاں پر میجر ہزلٹ ولئیم بیسٹ مارے گئے ۔۔ضلع ملاکنڈ کے گاؤں اگرہ سے جڑی کہانی ۔۔

ملاکنڈ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ میجر لیزے ولئیم ہزلٹ بیسٹ کی موت کی کہانی....میجر بیسٹ ملاکنڈ ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ( 1933تا 1935) رہے.  1914 اور 1935 میں جب پہلی بار ملاکنڈ ایجنسی کے علاقوں کوٹ اور آگرہ میں لیوی فورس کی چوکیاں قائم کی گئی,تو ان چوکیوں کی وساطت سے پھر ,کوٹ,آگرہ,سیلئ پٹے اور ٹوٹئ کے علاقوں پر برٹش سامراج نے Raids کئے,ان حملوں کی بُنیادی وجہ یہ تھی.کہ ملاکنڈ ایجنسی کے ڈھیری گاؤں کے شیر مالک نامی شخص کا  بیٹا اور ایک ہندو لڑکی  محبت کی خاطر گھر سے بھاگ کر آگرہ گاؤں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے,ہندو لڑکی کے ماں باپ نے ملاکنڈ پولٹیکل انتظامیہ سے شکایت کی کہ شیر مالک نامی شخص کے بیٹے نے اُنکی بیٹی کو اغواء کیا ہے..جس پر پولٹیکل ایجنٹ ملاکنڈ ایجنسی مسٹر بیسٹ نے آگرہ کے مشران کو  حُکم دیا کہ اُس لڑکے اور لڑکی کو انتظامیہ کے حوالے کریں.لیکن آگرہ کے مشران اس بات پر تیار نہ ہوئے,جس پر مسٹر بیسٹ نے لیویز فورس کی وساطت سے آگرہ  پر یلغار کی.آگرہ کے ساتھ ٹوٹی ,سیلئ پٹے اور کوٹ کے لوگ بھی مدد کرنے کے لئے آں پہنچے,دوسری طرف فقیر اُلنگر بھی افغانستان سے ان لوگوں کی مدد کے لئے آیا. ,جنگ کی صورت حال پیدا ہوئی.مسٹر بیسٹ خود برٹش فورس کی کمان کر رہا تھا,جیسے ہی وہ آگرہ گاؤں پہنچا, تو فوراً ایک شموزئی غازی محمد بابا کی گولی کا نشانہ بنا,اور موقع پر ہی مر گیا,مسٹر بیسٹ کی لاش  پھر ہریانکوٹ گاؤں لائی گئ.یہاں سے پھر پشاور پہنچا کر گورا قبرستان میں دفنائی  گئی..سیلئی پٹی کے مقام پر  ملاکنڈ لیویز کے دو اہلکار گل حسن اور نوراب گل سکنہ کوٹ اور اسکے ساتھ دیر لیویز کے دو  اہلکار زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے..بعد میں آگرہ گاؤں پر جنگی جہازوں سے بمباری کی گئ.مجبوراً آگرہ کے مشران اُس ہندو لڑکی اور لڑکے کو ملاکنڈ انتظامیہ کے حوالہ کرنے پر  تیار ہوئے..ہندو لڑکی کو اُسکے ماں باپ کے حوالہ کیا گیا,اور شیر مالک کے بیٹے کو قید میں ڈالا گیا...۔

 امجد علی اتمانخیل 

غازی محمد اتمانخیل بابا کے قبر کی تصویر کے لئے فدا حسین ہیڈماسٹر کے ممنون ۔۔

Post a Comment

0 Comments